كِتَابُ الطَّلَاقِ باب وجوب الاحداد فی عدّۃ الوفات ‘وتحریمہ فی غیر ذٰلک الا ثلاثۃ ایّام صحيح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ رُمْح، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ أَبِي عُبَيْدٍ، حَدَّثَتْهُ، عَنْ حَفْصَةَ، أَوْ عَنْ عَائِشَةَ، أَوْ عَنْ كِلْتَيْهِمَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ - أَوْ تُؤْمِنُ بِاللهِ وَرَسُولِهِ - أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجِهَا
کتاب: طلاق کے احکام ومسائل وفات کی عدت میں سوگ ضروری ہے اس کے علاوہ تین دن سے زیادہ سوگ منانا حرام ہے لیث بن سعد نے نافع سے روایت کی کہ صفیہ بنت ابی عبید نے انہیں حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے یا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یا ان دونوں سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کسی عورت کے لیے، جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے ۔۔ یا فرمایا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتی ہے ۔۔ حلال نہیں کہ وہ اپنے شوہر کے سوا کسی بھی مرنے والے پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے