كِتَابُ الطَّلَاقِ بَابُ بَيَانِ أَنَّ تَخْيِيرَ امْرَأَتِهِ لَا يَكُونُ طَلَاقًا إِلَّا بِالنِّيَّةِ صحيح وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «خَيَّرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاخْتَرْنَاهُ، فَلَمْ يَعُدَّهُ طَلَاقًا
کتاب: طلاق کے احکام ومسائل طلاق دینے کی نیت کیے بغیر محض بیوی کو اختیار دے دینے سے طلاق واقع نہیں ہو تی سفیان نے عاصم احول اور اسماعیل بن ابی خالد سے، انہوں نے شعبی سے، انہوں نے مسروق سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اختیار دیا تو ہم نے آپ کو اختیار کیا (چن لیا) اور آپ نے اسے طلاق شمار نہیں کیا