كِتَابُ الطَّلَاقِ بَابُ طَلَاقِ الثَّلَاثِ صحيح حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَبَا الصَّهْبَاءِ، قَالَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: أَتَعْلَمُ أَنَّمَا «كَانَتِ الثَّلَاثُ تُجْعَلُ وَاحِدَةً عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَثَلَاثًا مِنْ إِمَارَةِ عُمَرَ»؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «نَعَمْ
کتاب: طلاق کے احکام ومسائل تین طلاقیں ابن جریج نے ہمیں خبر دی، کہا: مجھے ابن طاوس نے اپنے والد (طاوس بن کیسان) سے خبر دی کہ ابوصبہاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد میں، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے (ابتدائی) تین سالوں تک تین طلاقوں کو ایک شمار کیا جاتا ہے؟ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ہاں