كِتَابُ الطَّلَاقِ بَابُ تَحْرِيمِ طَلَاقِ الْحَائِضِ بِغَيْرِ رِضَاهَا، وَأَنَّهُ لَوْ خَالَفَ وَقَعَ الطَّلَاقُ، وَيُؤْمَرُ بِرَجْعَتِهَا صحيح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ: طَلَّقْتُ امْرَأَتِي وَهِيَ حَائِضٌ، فَأَتَى عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: «مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا، ثُمَّ إِذَا طَهُرَتْ، فَلْيُطَلِّقْهَا» قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: أَفَاحْتَسَبْتَ بِتِلْكَ التَّطْلِيقَةِ؟ قَالَ: «فَمَهْ
کتاب: طلاق کے احکام ومسائل حائضہ کو اس کی رضا مندی کے بغیر طلاق دینا حرام ہے اور اگر کسینے (اس حکم کی )مخالفت کی تو طلاق واقع ہو جائے گی اور اسے رجوع کرنے کا حکم دیا جائے گا محمد بن جعفر نے ہمیں حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے انس بن سیرین سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے اپنی بیوی کو اس حالت میں طلاق دی کہ وہ حائضہ تھی، اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو بتایا تو آپ نے فرمایا: "اسے حکم دو کہ اس سے رجوع کرے، پھر جب وہ پاک ہو جائے تو تب اسے طلاق دے۔" میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ نے اس طلاق کو شمار کیا تھا؟ انہوں نے کہا: تو (اور) کیا