صحيح مسلم - حدیث 3665

كِتَابُ الطَّلَاقِ بَابُ تَحْرِيمِ طَلَاقِ الْحَائِضِ بِغَيْرِ رِضَاهَا، وَأَنَّهُ لَوْ خَالَفَ وَقَعَ الطَّلَاقُ، وَيُؤْمَرُ بِرَجْعَتِهَا صحيح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ يُونُسَ بْنَ جُبَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: طَلَّقْتُ امْرَأَتِي وَهِيَ حَائِضٌ، فَأَتَى عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِيُرَاجِعْهَا، فَإِذَا طَهُرَتْ فَإِنْ شَاءَ فَلْيُطَلِّقْهَا»، قَالَ: فَقُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: أَفَاحْتَسَبْتَ بِهَا؟ قَالَ: «مَا يَمْنَعُهُ، أَرَأَيْتَ إِنْ عَجَزَ، وَاسْتَحْمَقَ»

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 3665

کتاب: طلاق کے احکام ومسائل حائضہ کو اس کی رضا مندی کے بغیر طلاق دینا حرام ہے اور اگر کسینے (اس حکم کی )مخالفت کی تو طلاق واقع ہو جائے گی اور اسے رجوع کرنے کا حکم دیا جائے گا قتادہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں نے یونس بن جبیر سے سنا انہوں نے کہا میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: میں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی، اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو یہ بات بتائی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اس سے رجوع کرے، اس کے بعد جب وہ پاک ہو جائے تو اگر وہ چاہے اسے طلاق دے دے۔ (یونس نے) کہا: میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ اس طلاق کو شمار کریں گے؟ انہوں نے کہا: اس سے کیا چیز مانع ہے تمہاری کیا رائے ہے اگر وہ خود (صحیح طریقہ اختیار کرنے سے) عاجز رہا اور نادانی والا کام کیا (تو طلاق کیوں شمار نہ ہو گی