صحيح مسلم - حدیث 3661

كِتَابُ الطَّلَاقِ بَابُ تَحْرِيمِ طَلَاقِ الْحَائِضِ بِغَيْرِ رِضَاهَا، وَأَنَّهُ لَوْ خَالَفَ وَقَعَ الطَّلَاقُ، وَيُؤْمَرُ بِرَجْعَتِهَا صحيح وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: مَكَثْتُ عِشْرِينَ سَنَةً يُحَدِّثُنِي مَنْ لَا أَتَّهِمُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا وَهِيَ حَائِضٌ، فَأُمِرَ أَنْ يُرَاجِعَهَا، فَجَعَلْتُ لَا أَتَّهِمُهُمْ، وَلَا أَعْرِفُ الْحَدِيثَ، حَتَّى لَقِيتُ أَبَا غَلَّابٍ يُونُسَ بْنَ جُبَيْرٍ الْبَاهِلِيَّ، وَكَانَ ذَا ثَبَتٍ، فَحَدَّثَنِي أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ، فَحَدَّثَهُ «أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً وَهِيَ حَائِضٌ، فَأُمِرَ أَنْ يَرْجِعَهَا»، قَالَ: قُلْتُ: أَفَحُسِبَتْ عَلَيْهِ؟ قَالَ: «فَمَهْ، أَوَ إِنْ عَجَزَ، وَاسْتَحْمَقَ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 3661

کتاب: طلاق کے احکام ومسائل حائضہ کو اس کی رضا مندی کے بغیر طلاق دینا حرام ہے اور اگر کسینے (اس حکم کی )مخالفت کی تو طلاق واقع ہو جائے گی اور اسے رجوع کرنے کا حکم دیا جائے گا اسماعیل بن ابراہیم نے ہمیں ایوب سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابن سیرین سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے بیس سال توقف کیا، مجھے ایسے لوگ جنہیں میں مہتم نہیں سمجھتا تھا حدیث بیان کرتے رہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو جبکہ وہ حائضہ تھی تین طلاقیں دیں تو انہیں اس سے رجوع کرنے کا حکم دیا گیا۔ میں نے یہ کیا کہ میں انہیں مہتم نہیں کرتا تھا لیکن حدیث (کی حقیقت) کو بھی نہیں جانتا تھا، یہاں تک کہ میری ملاقات ابوغلاب یونس بن جبیر باہلی سے ہوئی۔ وہ بہت ضبط والے تھے۔ (حدیث کو بہت اچھی طرح یاد رکھنے والے تھے) انہوں نے مجھے حدیث بیان کی کہ انہوں نے خود ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا، انہوں نے ان کو حدیث بیان کی کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں ایک طلاق دی تھی تو انہیں کم دیا گیا کہ وہ اس سے رجوع کریں۔ کہا: میں نے عرض کی: کیا اسے طلاق شمار کیا گیا؟ انہوں نے جواب دیا: کیوں نہیں! اگر کوئی (آدمی) خود ہی (صحیح طریقے پر طلاق دینے سے) عاجز آ گیا ہو اور (حالت حیض میں طلاق دے کر) حماقت سے کام لیا ہو (تو کیا طلاق نہ ہو گی