كِتَابُ الطَّلَاقِ بَابُ تَحْرِيمِ طَلَاقِ الْحَائِضِ بِغَيْرِ رِضَاهَا، وَأَنَّهُ لَوْ خَالَفَ وَقَعَ الطَّلَاقُ، وَيُؤْمَرُ بِرَجْعَتِهَا صحيح وحَدَّثَنِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَرَاجَعْتُهَا، وَحَسَبْتُ لَهَا التَّطْلِيقَةَ الَّتِي طَلَّقْتُهَا
کتاب: طلاق کے احکام ومسائل حائضہ کو اس کی رضا مندی کے بغیر طلاق دینا حرام ہے اور اگر کسینے (اس حکم کی )مخالفت کی تو طلاق واقع ہو جائے گی اور اسے رجوع کرنے کا حکم دیا جائے گا امام زہری کے بھتیجے محمد نے ہمیں اپنے چچا زہری سے حدیث بیان کی، (کہا: ) ہمیں سالم بن عبداللہ نے خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے اپنی بیوی کو اس حالت میں طلاق دی کہ وہ حائضہ تھی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سخت غصے میں آئے، پھر فرمایا: "اسے حکم دو کہ اس سے رجوع کرے تا آنکہ اسے اس حیض کے سوا جس میں اس نے اسے طلاق دی ہے دوسرا حیض شروع ہو جائے۔ اس کے بعد اگر وہ اسے طلاق دینا چاہے تو اسے (دوسرے حیض کے بعد) پاک ہونے کی حالت میں، مباشرت کرنے سے پہلے طلاق دے، یہی عدت کے مطابق طلاق ہے جس طرح اللہ نے حکم دیا ہے۔" اور حضرت عبداللہ (بن عمر رضی اللہ عنہ) نے اسے ایک طلاق دی تھی اور اس کی وہ طلاق شمار کی گئی اور عبداللہ رضی اللہ عنہ نے، جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا تھا، اس سے رجوع کیا