كِتَابُ الرِّضَاعِ بَابُ جَوَازِ هِبَتِهَا نَوْبَتَهَا لِضُرَّتِهَا صحيح وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ: " أَمَا تَسْتَحِي امْرَأَةٌ تَهَبُ نَفْسَهَا لِرَجُلٍ، حَتَّى أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ} [الأحزاب: 51] "، فَقُلْتُ: «إِنَّ رَبَّكَ لَيُسَارِعُ لَكَ فِي هَوَاكَ»
کتاب: رضاعت کے احکام ومسائل اپنی باری اپنی سوکن کو ہبہ کرنا جائز ہے عبدہ بن سلیمان نے ہشام سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد (عروہ) سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سےروایت کی، وہ کہاکرتی تھیں: کیا اس عورت کو حیا محسوس نہیں ہوتی جو خود کو کسی مرد کے لیے ہبہ کرتی ہے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ نازل فرمایا: "آپ ان عورتوں میں سے جسے چاہیں پیچھے کریں اور جسے چاہیں اپنے پاس جگہ دیں۔" تو میں نے کہا: بلاشبہ آپ کا رب آپ کی خواہش (کو پورا کرنے) میں جلدی کرتا ہے