كِتَابُ الرِّضَاعِ بَابُ قَدْرِ مَا تَسْتَحِقُّهُ الْبِكْرُ، وَالثَّيِّبُ مِنْ إِقَامَةِ الزَّوْجِ عِنْدَهَا عُقْبَ الزِّفَافِ صحيح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، وَخَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: «مِنَ السُّنَّةِ أَنْ يُقِيمَ عِنْدَ الْبِكْرِ سَبْعًا» قَالَ خَالِدٌ: وَلَوْ شِئْتُ قُلْتُ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
کتاب: رضاعت کے احکام ومسائل رخصتی کے بعد باکرہ اور ثیبہ (دو ہاجو )اپنے پاس شوہر کے بعد کتنے کتنے دن قیام کی حقدار ہو ں گی سفیان نے ایوب اور خالد حذاء سے خبر دی، انہوں نے ابوقلابہ سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: سنت میں سے ہے کہ (دلہا) باکرہ کے ہاں سات راتیں قیام کرے۔ خالد نے کہا: اگر میں چاہوں تو کہہ سکتا ہوں: انہوں نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعا بیان کیا ہے