صحيح مسلم - حدیث 3611

كِتَابُ الرِّضَاعِ بَابُ جَوَازِ وَطْءِ الْمَسْبِيَّةِ بَعْدَ الِاسْتِبْرَاءِ، وَإِنْ كَانَ لَهَا زَوْجٌ انْفَسَخَ نِكَاحُهَا بِالسَّبْيِ صحيح ) وحَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: " أَصَابُوا سَبْيًا يَوْمَ أَوْطَاسَ لَهُنَّ أَزْوَاجٌ، فَتَخَوَّفُوا، فَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ} [النساء: 24

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 3611

کتاب: رضاعت کے احکام ومسائل استبرائے رحم کے بعد جنگ میں قید ہونے والی لونڈی کے ساتھ مجامعت کرنا جائز ہے اور اگر اس کا شوہر تھا تز غلامی کی وجہ سے اس کا نکاح فسخ ہو گیا شعبہ نے ہمیں قتادہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوخلیل سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: اوطاس کے دن صحابہ کو لونڈیاں ملیں جن کے خاوند بھی تھے، اس پر وہ (ان سے تعلقات، قائم کرتے ہوئے) ڈرے (کہ یہ گناہ نہ ہو) اس پر یہ آیت نازل کی گئی: "اور شادی شدہ عورتیں (بھی حرام ہیں) سوائے ان (لونڈیوں) کے جن کے تمہارے دائیں ہاتھ مالک ہو جائیں