كِتَابُ الرِّضَاعِ بَابُ جَوَازِ وَطْءِ الْمَسْبِيَّةِ بَعْدَ الِاسْتِبْرَاءِ، وَإِنْ كَانَ لَهَا زَوْجٌ انْفَسَخَ نِكَاحُهَا بِالسَّبْيِ صحيح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، أَنَّ أَبَا عَلْقَمَةَ الْهَاشِمِيَّ، حَدَّثَ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، حَدَّثَهُمْ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ يَوْمَ حُنَيْنٍ سَرِيَّةً، بِمَعْنَى حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ مِنْهُنَّ فَحَلَالٌ لَكُمْ، وَلَمْ يَذْكُرْ إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهُنَّ،
کتاب: رضاعت کے احکام ومسائل استبرائے رحم کے بعد جنگ میں قید ہونے والی لونڈی کے ساتھ مجامعت کرنا جائز ہے اور اگر اس کا شوہر تھا تز غلامی کی وجہ سے اس کا نکاح فسخ ہو گیا عبدالاعلی نے ہمیں سعید سے حدیث بیان کی، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے ابوخلیل سے روایت کی کہ ابوعلقمہ ہاشمی نے حدیث بیان کی، انہیں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے دن ایک سریہ بھیجا ۔۔۔ (آگے) یزید بن زریع کی حدیث کے ہم معنی ہے لیکن انہوں نے کہا: سوائے ان (لونڈیوں) کے جن کے مالک تمہارے دائیں ہاتھ ہوں، وہ تمہارے لیے حلال ہیں۔ اور انہوں نے "جب ان کی عدت پوری ہو جائے" کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔ (اس سریہ میں جو کنیزیں ہاتھ آئیں یہ واقعہ ان کے بارے میں ہے