كِتَابُ النِّكَاحِ بَابُ لَا تَحِلُّ الْمُطَلَّقَةُ ثَلَاثًا لِمُطَلِّقِهَا حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ، وَيَطَأَهَا، ثُمَّ يُفَارِقَهَا وَتَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا صحيح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: طَلَّقَ رَجُلٌ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا، فَتَزَوَّجَهَا رَجُلٌ، ثُمَّ طَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، فَأَرَادَ زَوْجُهَا الْأَوَّلُ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا، فَسُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: «لَا، حَتَّى يَذُوقَ الْآخِرُ مِنْ عُسَيْلَتِهَا مَا ذَاقَ الْأَوَّلُ»،
کتاب: نکاح کے احکام و مسائل جس عورت کو تین طلاقیں دے دی گئی ہوں وہ طلاق دینے والے کے لیے حلال نہیں حتی کہ وہ اس کے سوا کسی اور خاوند سے نکاح کرے اور وہ اس سے مباشرت کرے ‘پھر وہ اس سے علیحدگی اختیار کرے اور اس کی عادت پور ی ہو جائے علی بن مسہر نے عبیداللہ بن عمر (بن حفص عمری) سے حدیث بیان کی، انہوں نے قاسم بن محمد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک آدمی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں، اس کے بعد ایک اور آدمی نے اس سے نکاح کیا، پھر اس نے اس کے ساتھ مباشرت کرنے سے پہلے اس عورت کو طلاق دے دی تو اس کے پہلے شوہر نے چاہا کہ اس سے نکاح کر لے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مسئلے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: "نہیں، حتیٰ کہ دوسرا (خاوند) اس کی (وہی) لذت چکھ لے جو پہلے نے چکھی