كِتَابُ النِّكَاحِ بَابُ لَا تَحِلُّ الْمُطَلَّقَةُ ثَلَاثًا لِمُطَلِّقِهَا حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ، وَيَطَأَهَا، ثُمَّ يُفَارِقَهَا وَتَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا صحيح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْمَرْأَةِ يَتَزَوَّجُهَا الرَّجُلُ، فَيُطَلِّقُهَا فَتَتَزَوَّجُ رَجُلًا، فَيُطَلِّقُهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، أَتَحِلُّ لِزَوْجِهَا الْأَوَّلِ؟ قَالَ: «لَا، حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا
کتاب: نکاح کے احکام و مسائل جس عورت کو تین طلاقیں دے دی گئی ہوں وہ طلاق دینے والے کے لیے حلال نہیں حتی کہ وہ اس کے سوا کسی اور خاوند سے نکاح کرے اور وہ اس سے مباشرت کرے ‘پھر وہ اس سے علیحدگی اختیار کرے اور اس کی عادت پور ی ہو جائے ابواسامہ نے ہمیں ہشام سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد (عروہ بن زبیر) سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس عورت کے بارے میں سوال کیا گیا جس سے کوئی آدمی نکاح کرے، پھر وہ اسے طلاق دے دے، اس کے بعد وہ کسی اور آدمی سے نکاح کر لے اور وہ اس کے ساتھ مباشرت کرنے سے پہلے اسے طلاق دے دے تو کیا وہ عورت اپنے پہلے شوہر کے لیے حلال (ہو جاتی) ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "نہیں، حتیٰ کہ وہ (دوسرا خاوند) اس کی لذت چکھ لے