كِتَابُ النِّكَاحِ بَابُ زَوَاجِ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، وَنُزُولِ الْحِجَابِ، وَإِثْبَاتِ وَلِيمَةِ الْعُرْسِ صحيح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَمَّا تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ أَهْدَتْ لَهُ أُمُّ سُلَيْمٍ حَيْسًا فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ، فَقَالَ أَنَسٌ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اذْهَبْ، فَادْعُ لِي مَنْ لَقِيتَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ»، فَدَعَوْتُ لَهُ مَنْ لَقِيتُ، فَجَعَلُوا يَدْخُلُونَ عَلَيْهِ فَيَأْكُلُونَ وَيَخْرُجُونَ، وَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى الطَّعَامِ، فَدَعَا فِيهِ، وَقَالَ فِيهِ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَقُولَ، وَلَمْ أَدَعْ أَحَدًا لَقِيتُهُ إِلَّا دَعَوْتُهُ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، وَخَرَجُوا وَبَقِيَ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ، فَأَطَالُوا عَلَيْهِ الْحَدِيثَ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَحْيِي مِنْهُمْ أَنْ يَقُولَ لَهُمْ شَيْئًا، فَخَرَجَ وَتَرَكَهُمْ فِي الْبَيْتِ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ} [الأحزاب: 53]- قَالَ قَتَادَةُ: غَيْرَ مُتَحَيِّنِينَ طَعَامًا {وَلَكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا} [الأحزاب: 53] حَتَّى بَلَغَ {ذَلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ} [الأحزاب: 53
کتاب: نکاح کے احکام و مسائل حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنھما کا نکاح ئپردے (کے حکم )کا نزول اور شادی کے لیے ولیمے کا ثبوت معمر نے ہمیں ابوعثمان (جعد) سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ایک بڑے برتن میں حیس بھی آپ کی خدمت میں بطور ہدیہ پیش کیا۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جاؤ اور مسلمانوں میں سے جو بھی تمہیں ملے اسے میرے پاس بلا لاؤ" تو میں جس سے ملا اسے آپ کی طرف دعوت دی، لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے، کھانا کھاتے اور نکل جاتے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے پر اپنا ہاتھ رکھا اور اس میں (برکت کی) دعا کی، اس کے بارے میں جو اللہ نے چاہا کہ آپ کہیں، آپ نے کہا۔ اور میں جس کو بھی ملا، ان میں سے کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑا مگر اسے دعوت دی، لوگوں نے کھایا، حتی کہ سیر ہو گئے اور نکل گئے، ان میں سے ایک گروہ (وہیں) رہ گیا، انہوں نے آپ کی موجودگی میں طویل گفتگو کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم حیا محسوس کرنے لگے کہ ان سے کچھ کہیں، چنانچہ آپ نکلے اور انہیں گھر میں ہی چھوڑ دیا، تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیات) نازل فرمائیں: "اے ایمان والو! تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو، الا یہ کہ تمہیں کھانے کے لیے (اندر آنے کی) اجازت دی جائے، کھانا پکنے کا انتظار کرتے ہوئے نہیں۔" ۔۔ قتادہ نے کہا: کھانے کے وقت کا انتظار کرتے ہوئے نہیں ۔۔ "لیکن جب تمہیں بلایا جائے تب تم اندر جاؤ۔" حتی کہ آپ نے یہاں تک تلاوت کی: "یہ تمہارے اور ان کے دلوں کے لیے اور یادہ پاکیزگی (کا طریقہ) ہے