كِتَابُ النِّكَاحِ بَابُ اسْتِئْذَانِ الثَّيِّبِ فِي النِّكَاحِ بِالنُّطْقِ، وَالْبِكْرِ بِالسُّكُوتِ صحيح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: «الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا، وَالْبِكْرُ يَسْتَأْذِنُهَا أَبُوهَا فِي نَفْسِهَا، وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا»، وَرُبَّمَا قَالَ: «وَصَمْتُهَا إِقْرَارُهَا
کتاب: نکاح کے احکام و مسائل نکاح میں ثیبہ (جس کی پہلے بھی شادی ہوئی تھی) سے اس کے بولنے اور باکرہ سے اس کی خاموشی (عدمِ انکار) کے ذریعے سے اجازت لینا ابن ابی عمر نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں سفیان نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور کہا: "جس عورت نے شادی شدہ زندگی گزاری ہو وہ اپنے بارے میں اپنے ولی کی نسبت زیادہ حق رکھتی ہے، اور کنواری سے اس کا والد اس کے (نکاح کے) بارے میں اجازت لے گا، اس کی خاموشی اس کی اجازت ہے۔" اور کبھی انہوں نے کہا: "اور اس کی خاموشی اس کا اقرار ہے