صحيح مسلم - حدیث 3474

كِتَابُ النِّكَاحِ بَابُ اسْتِئْذَانِ الثَّيِّبِ فِي النِّكَاحِ بِالنُّطْقِ، وَالْبِكْرِ بِالسُّكُوتِ صحيح 64 - (1419) حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تُنْكَحُ الْأَيِّمُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ، وَلَا تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ»، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، وَكَيْفَ إِذْنُهَا؟ قَالَ: «أَنْ تَسْكُتَ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 3474

کتاب: نکاح کے احکام و مسائل نکاح میں ثیبہ (جس کی پہلے بھی شادی ہوئی تھی) سے اس کے بولنے اور باکرہ سے اس کی خاموشی (عدمِ انکار) کے ذریعے سے اجازت لینا فائدہ: "(؟) سے مراد ایسی عورت ہے جس کا خاوند نہ ہو، یعنی فوت ہو گیا ہو یا طلاق ہو گئی ہو۔ بعض اوقات اس سے مطلقا غیر شادی شدہ عورت مراد لی جاتی ہے جس میں کنواری بھی شامل ہے لیکن عموما بیوہ یا مطلقہ کو ہی (؟) کہا جاتا ہے۔ اس حدیث میں بھی (؟)(؟) یعنی کنواری کے مقابلے میں استعمال ہوا ہے۔ مراد بیوہ یا مطلقہ عورت ہے