كِتَابُ النِّكَاحِ بَابُ تَحْرِيمِ الْخِطْبَةِ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، حَتَّى يَأْذَنَ أَوْ يَتْرُكَ صحيح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، جَمِيعًا عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَبِعِ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، وَلَا يَخْطُبْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، إِلَّا أَنْ يَأْذَنَ لَهُ
کتاب: نکاح کے احکام و مسائل : اپنے مسلمان بھائی کے پیغامِ نکاح پر نکاح کا پیغام بھیجا حرام ہے، یہاں تک کہ وہ اجازت دے یا (ارادہ) ترک کر دے یحییٰ نے ہمیں عبیداللہ سے حدیث بیان کی، کہا: مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے خبر دی، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کوئی آدمی اپنے بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے اور نہ اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پر پیغام بھیجے الا یہ کہ وہ اسے اجازت دے