كِتَابُ الْحَجِّ بَابٌ فِي الْمَدِينَةِ حِينَ يَتْرُكُهَا أَهْلُهَا صحيح حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِلْمَدِينَةِ لَيَتْرُكَنَّهَا أَهْلُهَا عَلَى خَيْرِ مَا كَانَتْ مُذَلَّلَةً لِلْعَوَافِي» يَعْنِي السِّبَاعَ وَالطَّيْرَ، قَالَ مُسْلِمٌ: «أَبُو صَفْوَانَ هَذَا هُوَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، يَتِيمُ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَشْرَ سِنِينَ كَانَ فِي حَجْرِهِ»
کتاب: حج کے احکام ومسائل مدینہ کو بہترین حالت میں ہونے کے باوجود لوگوں کے اسے چھوڑدینے کے بارے میں آپ ﷺ کی پشین گوئی ابو صفوان اور ابن وہب نے یونس بن یزید سے،انھوں نے ابن شہاب سے ،انھوں نے سعید بن مسیب سے روایت کی کہ انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا،وہ کہہ رہے تھے:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے بارے میں فرمایا:"اس کے رہنے والے اس کے بہترین حالت میں ہونے کے باوجود،اسے اس حالت میں چھوڑ دیں گے کہ وہ خوراک کے متلاشیوں کے قدموں کے نیچے روندا جارہا ہوگا۔"آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد درندوں اور پرندوں سے تھی۔ امام مسلمؒ نے کہا:یہ ابو صفوان ،عبداللہ بن عبدالملک ہے،دس سال تک ابن جریج کا(پروردہ) یتیم ،جو ان کی گود میں تھا۔