كِتَابُ الْحَجِّ بابُ وُجُوبِ طَوَافِ الْوَدَاعِ وَسُقُوطِهِ عَنِ الْحَائِضِ صحيح حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ النَّاسُ يَنْصَرِفُونَ فِي كُلِّ وَجْهٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَنْفِرَنَّ أَحَدٌ حَتَّى يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِ بِالْبَيْتِ»، قَالَ زُهَيْرٌ: يَنْصَرِفُونَ كُلَّ وَجْهٍ، وَلَمْ يَقُلْ: فِي
کتاب: حج کے احکام ومسائل طواف وداع کی فرضیت اروحیض والی عورت سے (اگر وہ طواف افاضہ کر چکی ہے )اس (فرض )کا ساقط ہو جانا سعید بن منصور اور زہیر بن حرب نے ہمیں حدیث بیان کی دونوں نے کہا : ہمیں سفیان نے سلیما ن احول سے حدیث بیان کی انھوں نے طا ؤس سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : لوگ ( حج کے بعد) ہر سمت میں نکل (کر چلے ) جا تے تھے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا :" کو ئی بھی شخص ہر گز روانہ ہو یہاں تک کہ اس کی آخری حاضری (بطور طواف ) بیت اللہ کی ہو زہیر نے کہا : ہر سمت "اور"(ہر سمت ) میں نہیں کہا ۔