صحيح مسلم - حدیث 3206

كِتَابُ الْحَجِّ بَابُ اسْتِحْبَابِ بَعْثِ الْهَدْيِ إِلَى الْحَرَمِ لِمَنْ لَا يُرِيدُ الذَّهَابَ بِنَفْسِهِ وَاسْتِحْبَابِ تَقْلِيدِهِ صحيح وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ، وَهِيَ مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ تُصَفِّقُ، وَتَقُولُ: «كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ، ثُمَّ يَبْعَثُ بِهَا وَمَا يُمْسِكُ عَنْ شَيْءٍ، مِمَّا يُمْسِكُ عَنْهُ الْمُحْرِمُ، حَتَّى يُنْحَرَ هَدْيُهُ»

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 3206

کتاب: حج کے احکام ومسائل جو شخص خود نہ جانا چاہتا ہو اس کےلیے حرم میں قربانی کا جانور بھیجنا مستحب ہے اسما عیل بن ابی خالد نے ہمیں خبردی انھوں نے شعبی سے اور انھوں نے مسروق سے روایت کی ، انھوں نے کہا میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سنا وہ پردے کی اوٹ سے ہاتھ پر ہا تھ مار رہی تھیں اور کہہ رہی تھیں میں اپنے ہاتھوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قر با نیوں کے ہار بٹا کرتی تھی ،پھر آپ انھیں (مکہ) بھیجتے اور ہدی کو ذبح کرنے (کے وقت) تک آپ ان میں سے کسی چیز سے بھی اجتناب نہ فر ما تے جس سے احرام والا شخص اجتناب کرتا ہے