كِتَابُ الْحَجِّ بَابُ اسْتِحْبَابِ بَعْثِ الْهَدْيِ إِلَى الْحَرَمِ لِمَنْ لَا يُرِيدُ الذَّهَابَ بِنَفْسِهِ وَاسْتِحْبَابِ تَقْلِيدِهِ صحيح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: «أَنَا فَتَلْتُ تِلْكَ الْقَلَائِدَ مِنْ عِهْنٍ كَانَ عِنْدَنَا، فَأَصْبَحَ فِينَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَالًا، يَأْتِي مَا يَأْتِي الْحَلَالُ مِنْ أَهْلِهِ، أَوْ يَأْتِي مَا يَأْتِي الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِهِ»
کتاب: حج کے احکام ومسائل جو شخص خود نہ جانا چاہتا ہو اس کےلیے حرم میں قربانی کا جانور بھیجنا مستحب ہے ہمیں ابن عون نے قاسم سے حدیث بیان کی انھوں نے ام المومنین (حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : میں نے یہ ہار اس اون سے بٹے جو ہمارے پا س تھی اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں غیر محرم ہی رہے آپ (اپنی ازواج کے پاس ) آتے جیسے غیر محرم اپنی بیوی کے پاس آتا ہے یا آپ آتے جیسے ایک (عام آدمی اپنی بیوی کے پا س آتا ہے ۔