كِتَابُ الْحَجِّ بَابُ مَنْ حَلَقَ قَبْلَ النَّحْرِ، أَوْ نَحَرَ قَبْلَ الرَّمْيِ صحيح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا هُوَ يَخْطُبُ يَوْمَ النَّحْرِ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ: مَا كُنْتُ أَحْسِبُ، يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَّ كَذَا وَكَذَا، قَبْلَ كَذَا وَكَذَا، ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، كُنْتُ أَحْسِبُ أَنَّ كَذَا، قَبْلَ كَذَا وَكَذَا، لِهَؤُلَاءِ الثَّلَاثِ، قَالَ: «افْعَلْ وَلَا حَرَجَ»
کتاب: حج کے احکام ومسائل قربانی کو رمی سے ‘اور بال منڈوانے کو قربانی اور رمی (دونوں )سے مقدم کرنا اور ان سب سے پہلے طواف افاضہ کرنا جائز ہے عیسیٰ نے ہمیں ابن جریج سے خبر دی کہا میں نے ابن شہاب سے سنا کہہ رہے تھے عیسیٰ بن طلحہ نے مجھے حدیث بیان کی ،کہا مجھے حضرت عبد اللہ بن عمرو بن راص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ اس دورا ن میں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم قر بانی کے دن خطبہ دے رہے تھے کو ئی آدمی آپ کی طرف (رخ کر کے ) کھڑا ہوا اور کہا :اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں نہیں سمجھتا تھا کہ فلا ں کا فلاں سے پہلے ہے پھر کو ئی اور آدمی آیا اور کہا : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میرا خیال تھا کہ فلا ں کا م فلا ں فلاں سے پہلے ہو گا (انھوں نے ) ان تین کا موں (سر منڈوانے رمی اور قر بانی کے بارے میں پو چھا تو) آپ نے یہی فر ما یا :"(اب) کر لو کو ئی حرج نہیں ۔