كِتَابُ الْحَجِّ بَابُ مَنْ حَلَقَ قَبْلَ النَّحْرِ، أَوْ نَحَرَ قَبْلَ الرَّمْيِ صحيح حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: وَقَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، بِمِنًى، لِلنَّاسِ يَسْأَلُونَهُ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، لَمْ أَشْعُرْ، فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ، فَقَالَ: «اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ» ثُمَّ جَاءَهُ رَجُلٌ آخَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، لَمْ أَشْعُرْ فَنَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، فَقَالَ: «ارْمِ وَلَا حَرَجَ» قَالَ: فَمَا سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ قُدِّمَ وَلَا أُخِّرَ، إِلَّا قَالَ: «افْعَلْ وَلَا حَرَجَ»
کتاب: حج کے احکام ومسائل قربانی کو رمی سے ‘اور بال منڈوانے کو قربانی اور رمی (دونوں )سے مقدم کرنا اور ان سب سے پہلے طواف افاضہ کرنا جائز ہے امام مالک نے ابن شہاب سے انھوں نے عیسیٰ بن طلحہ بن عبید اللہ سے انھوں نے عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا حجتہ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں لوگوں کے لیے ٹھہرے رہے وہ آپ سے مسائل پوچھ رہے تھے ایک آدمی آیا اور کہنے لگا :اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں سمجھ نہ سکا (کہ پہلے کیا ہے ) اور میں نے قر با نی کرنے سے پہلے سر منڈوالیا ہے ؟ آپ نے فر ما یا ؛ (اب ) قر با نی کر لو کو ئی حرج نہیں ۔پھر ایک اور آدمی آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے پتہ نہ چلا اور میں نے رمی کرنے سے پہلے قر با نی کر لی ؟ آپ نے فر ما یا :"(اب) رمی کر لو کو ئی حرج نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کے متعلق جس میں تقدیم یا تا خیر کی گئی نہیں پو چھا گیا مگر آپ نے (یہی ) فر ما یا :"(اب)کر لو کو ئی حرج نہیں ۔