كِتَابُ الْحَجِّ بَابُ بَيَانِ أَنَّ السُّنَّةَ يَوْمَ النَّحْرِ أَنْ يَرْمِيَ، ثُمَّ يَنْحَرَ، ثُمَّ يَحْلِقَ وَالِابْتِدَاءِ فِي الْحَلْقِ بِالْجَانِبِ الْأَيْمَنِ مِنْ رَأْسِ الْمَحْلُوقِ صحيح حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى مِنًى، فَأَتَى الْجَمْرَةَ فَرَمَاهَا، ثُمَّ أَتَى مَنْزِلَهُ بِمِنًى وَنَحَرَ، ثُمَّ قَالَ لِلْحَلَّاقِ خُذْ وَأَشَارَ إِلَى جَانِبِهِ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ الْأَيْسَرِ، ثُمَّ جَعَلَ يُعْطِيهِ النَّاسَ»
کتاب: حج کے احکام ومسائل قربانی کے دن سنت یہ ہے کہ (حج کرنے والا پہلے )رمی کرے ‘پھر قربانی کرے ‘پھر سر مونڈائے اور مونڈنے کی ابتداء سر کی دائیں طر ف سے کی جائے ہمیں یحییٰ بن یحییٰ نے حدیث بیان کی (کہا) ہمیں حفص بن غیاث نے ہشام سے خبر دی انھوں نے محمد بن سیرین سے اور انھوں نے انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ تشر یف لا ئے پھر جمرہ عقبہ کے پاس آئے اور اسے کنکریاں ماریں پھر منیٰ میں اپنے پڑاؤ پر آئے اور قر با نی کی ،پھر بال مونڈنے والے سے فر ما یا :" پکڑو۔"اور آپ نے اپنے (سر کی ) دائیں طرف اشاراہ کیا پھر بائیں طرف پھر آپ (اپنے موئے مبارک ) لوگوں کو دینے لگے ۔