كِتَابُ الْحَجِّ بَابُ الْإِفَاضَةِ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ وَاسْتِحْبَابِ صَلَاتَيِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ جَمِيعًا بِالْمُزْدَلِفَةِ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ صحيح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ، قَالَ: «جَمَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ لَيْسَ بَيْنَهُمَا سَجْدَةٌ، وَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ، وَصَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ» فَكَانَ عَبْدُ اللهِ يُصَلِّي بِجَمْعٍ كَذَلِكَ، حَتَّى لَحِقَ بِاللهِ تَعَالَى "
کتاب: حج کے احکام ومسائل عرفات سے مزدلفہ آنا اور اس رات مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی دونوں نمازیں اکٹھی ادا کرنا مستحب ہے عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر نے خبر دی کہ ان کے والد نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کیں،ان دونوں کے درمیان کوئی(نفل) نماز نہ تھی۔آپ نے مغرب کی تین رکعتیں ادا کیں اور عشاء کی دو رکعتیں ادا کیں۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی مزدلفہ میں اسی طرح نماز پڑھتے رہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ سے جا ملے۔