صحيح مسلم - حدیث 3094

كِتَابُ الْحَجِّ بَابُ اسْتِحْبَابِ إِدَامَةِ الْحَاجِّ التَّلْبِيَةَ حَتَّى يَشْرَعَ فِي رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ صحيح وحَدَّثَنِيهِ يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ، حَدَّثَنَا زِيَادٌ يَعْنِي الْبَكَّائِيَّ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، وَالْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَا: سَمِعْنَا عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ: بِجَمْعٍ سَمِعْتُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ هَاهُنَا، يَقُولُ: «لَبَّيْكَ، اللهُمَّ، لَبَّيْكَ» ثُمَّ لَبَّى وَلَبَّيْنَا مَعَهُ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 3094

کتاب: حج کے احکام ومسائل قربانی کے دن جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے (کے وقت )تک حاجی کے لیے مسلسل تلبیہ پکارنا مستحب ہے زیادبگا ئی نے حصین سے حدیث بیان کی ،انھوں نے کثیر بن مدرک اشجعی سے انھوں نے عبد الرحمٰن بن یزید اور اسود بن یزید سے روایت کی ،دونوں نے کہا : ہم نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ مزدلفہ میں فر ما رہے تھے۔میں نے اس ہستی سے سنا ،جن پر سورہ بقرہ نازل کی گئی ۔ آپ اسی جگہ لبیک اللہم لبیک کہہ رہے تھے۔ (یہ کہہ کر) انھوں (عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے تلبیہ پکا را اور ہم نے بھی ان کے ساتھ تلبیہ پکارا ۔