كِتَابُ الْحَجِّ بَابُ جَوَازِ الطَّوَافِ عَلَى بَعِيرٍ وَغَيْرِهِ، وَاسْتِلَامِ الْحَجَرِ بِمِحْجَنٍ وَنَحْوِهِ لِلرَّاكِبِ صحيح حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَشْتَكِي فَقَالَ: «طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ» قَالَتْ: فَطُفْتُ، «وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَئِذٍ يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ، وَهُوَ يَقْرَأُ بِالطُّورِ وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ»
کتاب: حج کے احکام ومسائل
اونٹ یا کسی اور سواری پر طواف کرنا اور سوار شخص کے لیے مڑے ہوئے سرے والی چھڑی وغیرہ (کسی بھی چیز )سے حجرا سود کا استلام کرنا جائز ہے
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے،کہا:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکوہ کیا کہ میں بیمار ہوں تو آپ نے فرمایا:"سوار ہوکر لوگوں کے پیچھے سے طواف کرلو۔"انھوں نے کہا:جب میں نے طواف کیا تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کی ایک جانب نماز ادا فرمارہے تھے،اور(نماز میں )(وَالطُّورِ﴿