صحيح مسلم - حدیث 3067

كِتَابُ الْحَجِّ بَابُ اسْتِحْبَابِ تَقْبِيلِ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ فِي الطَّوَافِ صحيح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، وَعَمْرٌو، ح وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ قَالَ: قَبَّلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الْحَجَرَ، ثُمَّ قَالَ: «أَمَ وَاللهِ، لَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّكَ حَجَرٌ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ» زَادَ هَارُونُ فِي رِوَايَتِهِ: قَالَ عَمْرٌو: وَحَدَّثَنِي بِمِثْلِهَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ أَسْلَمَ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 3067

کتاب: حج کے احکام ومسائل دوران طواف حجرا سود کو بوسہ دینا مستحب ہے مجھے حرملہ بن یحییٰ نے حدیث سنائی ،(کہا:) ہمیں ابن وہب نے خبر دی،(کہا:) مجھے یونس اورعمرو نے خبر دی،اسی طرح مجھے ہارون بن سعید ایلی نے حدیث بیان کی،کہا:ابن وہب نے عمروسےخبر دی،انھوں نے ابن شہاب سے،انھوں نے سالم سے روایت کی کہ ان کے والد(عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے انھیں حدیث بیان کی ،کہا: (ایک مرتبہ) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور فرمایا:ہاں ،اللہ کی قسم!میں اچھی طرح جانتاہوں کہ تو ایک پتھر ہے،اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھا ہوتا کہ وہ تمھیں بوسہ دیتے تھے تو میں تمھیں(کبھی) بوسہ نہ دیتا۔ ہارون نے اپنی روایت میں (کچھ)اضافہ کیا،عمرو نے کہا:مجھے زید بن اسلم نے اپنے والد اسلم سے اسی کے مانند روایت کی تھی۔