كِتَابُ الْحَجِّ بَابُ اسْتِحْبَابِ الْمَبِيتِ بِذِي طُوًى عِنْدَ إِرَادَةِ دُخُولِ مَكَّةَ، وَالِاغْتِسَالِ لِدُخُولِهَا وَدُخُولِهَا نَهَارًا صحيح وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ: «كَانَ لَا يَقْدَمُ مَكَّةَ إِلَّا بَاتَ بِذِي طَوًى، حَتَّى يُصْبِحَ وَيَغْتَسِلَ ثُمَّ يَدْخُلُ مَكَّةَ نَهَارًا، وَيَذْكُرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ فَعَلَهُ»
کتاب: حج کے احکام ومسائل مکہ میں داخل ہونے کے لیے پہلےذی طویٰ میں رات گزارنا‘داخل ہونے کےلیے غسل کرنا اوردن کے وقت داخل ہونا مستحب ہے حماد نے ایوب سے حدیث بیان کی، انھوں نے نافع سے روایت کی کہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب بھی مکہ آتے تو ذی طویٰ (کے مقام ) ہی میں رات گزارتے حتی کہ صبح ہو جا تی غسل فر ماتے پھر دن کے وقت مکہ میں داخل ہو تے ۔وہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ذکر کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا تھا ۔