كِتَابُ الْحَجِّ بَابُ اسْتِحْبَابِ دُخُولِ مَكَّةَ مِنَ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا وَالْخُرُوجِ مِنْهَا مِنَ الثَّنِيَّةِ السُّفْلَى وَدُخُولِ بَلَدِهِ مِنْ طَرِيقٍ غَيْرَ الَّتِي خَرَجَ مِنْهَا صحيح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَامَ الْفَتْحِ مِنْ كَدَاءٍ مِنْ أَعْلَى مَكَّةَ " قَالَ هِشَامٌ: «فَكَانَ أَبِي يَدْخُلُ مِنْهُمَا كِلَيْهِمَا، وَكَانَ أَبِي أَكْثَرَ مَا يَدْخُلُ مِنْ كَدَاءٍ»
کتاب: حج کے احکام ومسائل مکہ ثنیہ علیا (بالائی گھاٹی )سے داخل ہونا اور ثنیہ سفلیٰ(زیر یں گھاٹی )سے باہر نکلنا اور شہر میں ایک راستے سے داخل ہونا اور دوسرے سے نکلنا مستحب ہے ابو اسامہ نے ہشام سے مذکورہ سند کے ساتھ روایت کی کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ والے سال کداء سے مکہ کی با لا ئی جا نب سے مکہ میں دا خل ہوئے تھے ۔ ہشا م نے کہا : میرے والد دونوں (بالائی اور زیریں ) جانبوں سے مکہ میں داخل ہو تے تھے لیکن اکثر اوقات وہ کداء ہی سے داخل ہو تے ۔