صحيح مسلم - حدیث 3040

كِتَابُ الْحَجِّ بَابُ اسْتِحْبَابِ دُخُولِ مَكَّةَ مِنَ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا وَالْخُرُوجِ مِنْهَا مِنَ الثَّنِيَّةِ السُّفْلَى وَدُخُولِ بَلَدِهِ مِنْ طَرِيقٍ غَيْرَ الَّتِي خَرَجَ مِنْهَا صحيح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْرُجُ مِنْ طَرِيقِ الشَّجَرَةِ، وَيَدْخُلُ مِنْ طَرِيقِ الْمُعَرَّسِ، وَإِذَا دَخَلَ مَكَّةَ، دَخَلَ مِنَ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا، وَيَخْرُجُ مِنَ الثَّنِيَّةِ السُّفْلَى»

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 3040

کتاب: حج کے احکام ومسائل مکہ ثنیہ علیا (بالائی گھاٹی )سے داخل ہونا اور ثنیہ سفلیٰ(زیر یں گھاٹی )سے باہر نکلنا اور شہر میں ایک راستے سے داخل ہونا اور دوسرے سے نکلنا مستحب ہے محمد بن عبد اللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث سنا ئی (کہا :) ہمیں عبید اللہ نے نافع سے انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ سے) شجرہ کے راستے سے نکلتے اور معرس کے راستے سے داخل ہو تے تھے ۔اور جب مکہ میں داخل ہو تے تو ثنیہ علیا سے داخل ہو تے اور ثنیہ سفلیٰ سے باہر نکلتے تھے ۔