كِتَابُ الْحَجِّ بَابُ فَضْلِ الْعُمْرَةِ فِي رَمَضَانَ صحيح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لِامْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهَا أُمُّ سِنَانٍ «مَا مَنَعَكِ أَنْ تَكُونِي حَجَجْتِ مَعَنَا؟» قَالَتْ: نَاضِحَانِ كَانَا لِأَبِي فُلَانٍ - زَوْجِهَا - حَجَّ هُوَ وَابْنُهُ عَلَى أَحَدِهِمَا، وَكَانَ الْآخَرُ يَسْقِي عَلَيْهِ غُلَامُنَا، قَالَ: «فَعُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تَقْضِي حَجَّةً أَوْ حَجَّةً مَعِي»
کتاب: حج کے احکام ومسائل رمضان المبارک میں عمرہ کرنے کی فضیلت حبیب معلم نے ہمیں حدیث سنا ئی ،انھوں نے عطا ء سے انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری عورت سے جسے ام سنان کہا جا تا تھا کہا :"تمھیں کس بات نے روکا کہ تم ہمارے ساتھ حج کرتیں ؟"اس نے کہا : ابو فلاں۔۔۔اس کے خاوند ۔۔۔کے پاس پانی ڈھونے والے دو اونٹ تھے ایک پر اس نے اور اس کے بیٹے نے حج کیا اور دوسرے پر ہمارا غلام پانی ڈھوتا تھا ۔آپ نے فر ما یا :" رمضان المبارک میں عمرہ حج یا میرے ساتھ حج (کی کمی ) کو پورا کر دیتا ہے