صحيح مسلم - حدیث 2986

كِتَابُ الْحَجِّ بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقَارِنَ لَا يَتَحَلَّلُ إِلَّا فِي وَقْتِ تَحَلُّلِ الْحَاجِّ الْمُفْرِدِ صحيح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، قَالَتْ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا وَلَمْ تَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِكَ؟ قَالَ: «إِنِّي قَلَّدْتُ هَدْيِي، وَلَبَّدْتُ رَأْسِي، فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَحِلَّ مِنَ الْحَجِّ»

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 2986

کتاب: حج کے احکام ومسائل حج قران کرنے والابھی اسی وقت احرام کھولے ہو گا جب حج افراد کرنے والاکھولے گا عبید اللہ نے کہا :مجھے نافع نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے خبر دی انھوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: لوگوں کا کیا معاملہ ہے؟ انھوں نے احرا م کھول دیا ہے اور آپ نے (مناسک) ادا ہو جا نے کے باوجود ) ابھی تک عمرے کا احرا م نہیں کھولا ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"میں نے اپنی قربانی کے اونٹوں کو ہار پہنائے اور اپنے سر (کے بالوں ) کو گوند (جیلی ) سے چپکا یا میں جب تک حج سے فارغ نہ ہو جاؤں ۔احرام سے فارغ نہیں ہو سکتا ۔