كِتَابُ الْحَجِّ بَابُ جَوَازِ التَّمَتُّعِ صحيح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، قَالَ: قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ: إِنِّي لَأُحَدِّثُكَ بِالْحَدِيثِ الْيَوْمَ يَنْفَعُكَ اللهُ بِهِ بَعْدَ الْيَوْمِ، «وَاعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْمَرَ طَائِفَةً مِنْ أَهْلِهِ فِي الْعَشْرِ، فَلَمْ تَنْزِلْ آيَةٌ تَنْسَخُ ذَلِكَ، وَلَمْ يَنْهَ عَنْهُ حَتَّى مَضَى لِوَجْهِهِ، ارْتَأَى كُلُّ امْرِئٍ، بَعْدُ مَا شَاءَ أَنْ يَرْتَئِيَ»
کتاب: حج کے احکام ومسائل حج تمتع کرنما جائز ہے ہمیں اسماعیل بن ابراہیم نے حدیث بیا ن کی،(کہا:)ہمیں جریری نے حدیث سنائی،انھوں نے ابو العلاء سے ،انھوں نے مطرف سے روایت کی،(مطرف نے) کہا: عمران بن حصین نے مجھ سے کہا:میں تمھیں آج ایک ایسی حدیث بیان کرنے لگاہوں جس سے اللہ تعالیٰ آج کے بعد تمھیں نفع دے گا۔جان لو! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں میں سے کچھ کو ذوالحجہ میں عمرہ کروایا ،پھر نہ تو کوئی ایسی آیت نازل ہوئی جس نے اسے(حج کے مہینوںمیں عمرے کو) منسوخ قرار دیا ہو،اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے روکا،حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی منزل کی طرف تشریف لے گئے۔بعد میں ہر شخص نے جورائے قائم کرنا چاہی کرلی۔