كِتَابُ الْحَجِّ بَابُ جَوَازِ التَّمَتُّعِ صحيح حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، قَالَ: أَتَيْتُ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيَّ وَإِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيَّ، فَقُلْتُ: إِنِّي أَهُمُّ أَنْ أَجْمَعَ الْعُمْرَةَ وَالْحَجَّ الْعَامَ، فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ: لَكِنْ أَبُوكَ لَمْ يَكُنْ لِيَهُمَّ بِذَلِكَ. قَالَ قُتَيْبَةُ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ مَرَّ بِأَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالرَّبَذَةِ، فَذَكَرَ لَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ: «إِنَّمَا كَانَتْ لَنَا خَاصَّةً دُونَكُمْ»
کتاب: حج کے احکام ومسائل حج تمتع کرنما جائز ہے ہمیں قتیبہ نے حدیث بیان کی،(کہا:)ہمیں جریر نے بیان سے،انھوں نے عبدالرحمان بن ابی شعشاء سے روایت کی،کہا:میں ابراہیم نخعی اورابراہیم تیمی کے پاس آیا اور ان سے کہا: میں چاہتا ہوں کہ اس سال حج اور عمرے د ونوں کواکھٹا ادا کروں۔ابراہیم نخعی نے(میری بات سن کر) کہا:تمھارے والد (ابو شعثاء) تو کبھی ایسا ارادہ بھی نہ کرتے۔ قتیبہ نے کہا:ہمیں جریر نے بیان سے حدیث بیا ن کی،انھوں نے ابراہیم تیمی سے انھوں نے اپنے والد(یزید بن شریک) سے روایت کی کہ ایک مرتبہ ان کا گزر ربذہ کے مقام پر حضرت ابو زر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس سےہوا،انھوں نے اس سے،(حج میں تمتع) کا ذکر کیا۔حضرت ابوزر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا:یہ تم لوگوں کو چھوڑ کر خاص ہمارے لئے تھا۔