كِتَابُ الْحَجِّ بَابٌ فِي نَسْخِ التَّحَلُّلِ مِنَ الْإِحْرَامِ وَالْأَمْرِ بِالتَّمَامِ صحيح وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَنِي إِلَى الْيَمَنِ، قَالَ: فَوَافَقْتُهُ فِي الْعَامِ الَّذِي حَجَّ فِيهِ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا مُوسَى، كَيْفَ قُلْتَ حِينَ أَحْرَمْتَ؟» قَالَ قُلْتُ: لَبَّيْكَ إِهْلَالًا كَإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «هَلْ سُقْتَ هَدْيًا؟» فَقُلْتُ: لَا، قَالَ: «فَانْطَلِقْ فَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ أَحِلَّ» ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ شُعْبَةَ، وَسُفْيَانَ
کتاب: حج کے احکام ومسائل اپنے احرام کو (کسی اور کے احرام کے ساتھ)معلق کرنے کا جواز ‘یعنی کوئی شخص اس طرح احرام باندھے جس طرح کسی اور (فلا)کا احرام ہے ‘اور اسی (منسک)کے احرام میں ہو جائے جس طرح (کے منسک)کا احرام فلاں کا ہے ابو عمیس نے ہمیں قیس بن مسلم سے خبر دی،انھوں نے طارق بن شہاب سے ،انھوں نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی،انھوں نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن بھیجاتھا،پھر میری آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سال ملاقات ہوئی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج ادا فرمایا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا:"ابو موسیٰ!"تم نے کون سا تلبیہ پکارا ہے؟(حج کا ،عمرے کا،یا دونوں کا؟)"میں نے عرض کی:میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم والا تلبیہ پکارا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم قربانی ساتھ لائے ہو؟ میں نے کہا نہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف کر کے احرام کھول ڈالو۔ آگے (ابو عمیس نے) شعبہ اور سفیان ہی کی طرح حدیث بیان کی۔