كِتَابُ الصِّيَامِ بَابُ النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ الدَّهْرِ لِمَنْ تَضَرَّرَ بِهِ أَوْ فَوَّتَ بِهِ حَقًّا أَوْ لَمْ يُفْطِرِ الْعِيدَيْنِ وَالتَّشْرِيقَ، وَبَيَانِ تَفْضِيلِ صَوْمِ يَوْمٍ، وَإِفْطَارِ يَوْمٍ صحيح وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ فِيهِ، بَعْدَ قَوْلِهِ: «مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ»: «فَإِنَّ لَكَ بِكُلِّ حَسَنَةٍ عَشْرَ أَمْثَالِهَا، فَذَلِكَ الدَّهْرُ كُلُّهُ» وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: قُلْتُ: وَمَا صَوْمُ نَبِيِّ اللهِ دَاوُدَ؟ قَالَ: «نِصْفُ الدَّهْرِ» وَلَمْ يَذْكُرْ فِي الْحَدِيثِ مِنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ شَيْئًا، وَلَمْ يَقُلْ «وَإِنَّ لِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا» وَلَكِنْ قَالَ: «وَإِنَّ لِوَلَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا»
کتاب: روزے کے احکام و مسائل اس شخص کے لیے سال بھر کے روزے رکھنے کی ممانعت جسے اس سےنقصان پہنچنے یا وہ اس کی وجہ سے کسی حق کو ضائع کرے ‘یا عید ین اور ایام تشریق کاٰ روزہ بھی نہ چھوڑے ‘اور ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن نہ رکھنے کی فضیلت حسین المعلم نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سند کے ساتھ (سابقہ حدیث کے مانند) حدیث سنائی،اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان:"ہر مہینے میں تین دن"کے بعد یہ الفاظ زائد بیان کیے:"تمھارے لئے ہر نیکی کے بدلے میں اس جیسی دس (نیکیاں) ہیں۔،تو یہ سارے سال کے(روزے) ہیں۔" اور(اس) حدیث میں کہا:میں نے عرض کی:اللہ کے نبی داود علیہ السلام کا روزہ کیاتھا؟فرمایا:"آدھا سال۔"اورانھوں نے حدیث میں قرآن پڑھنے کے حوالے سے کچھ بیان نہیں کیا اور انھوں نے؛"تمھارے مہمانوں کا تم پر حق ہے" کے الفاظ بیا ن نہیں کیے،اس کی بجائے انھوں نے کہا:(آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)"اور تمھاری اولاد کا تم پرحق ہے۔"