صحيح مسلم - حدیث 2694

كِتَابُ الصِّيَامِ بَابُ قَضَاءِ الصِّيَامِ عَنِ الْمَيِّتِ صحيح وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ، أَفَأَقْضِيهِ عَنْهَا؟ فَقَالَ: «لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكَ دَيْنٌ، أَكُنْتَ قَاضِيَهُ عَنْهَا؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَدَيْنُ اللهِ أَحَقُّ أَنْ يُقْضَى» قَالَ سُلَيْمَانُ: فَقَالَ الْحَكَمُ، وَسَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ جَمِيعًا، وَنَحْنُ جُلُوسٌ حِينَ حَدَّثَ مُسْلِمٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَا: سَمِعْنَا مُجَاهِدًا، يَذْكُرُ هَذَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 2694

کتاب: روزے کے احکام و مسائل میت کی طرف سے روزوں کی قضا دینا ۔ احمد بن عمر وکیعی،حسین بن علی،زائدہ،سلیمان ،مسلم ،سعید بن جبیر،حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میری ماں کا انتقال ہوگیا ہے اور اس پر ایک مہینے کے روزوں کی قضا لازم ہے۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تیری ما ں پر کوئی قرض ہوتا تو کیا تو وہ قرض اس کی طرف سے ادا کرتی؟عرض کیا کہ ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کا قرض زیادہ اس کا حقدار ہے کہ اسے اداکیا جائے۔