كِتَابُ الصِّيَامِ بَابُ تَغْلِيظِ تَحْرِيمِ الْجِمَاعِ فِي نَهَارِ رَمَضَانَ عَلَى الصَّائِمِ، صحيح حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلًا أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ، أَنْ يُعْتِقَ رَقَبَةً، أَوْ يَصُومَ شَهْرَيْنِ، أَوْ يُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا»
کتاب: روزے کے احکام و مسائل رمضان میں دن کے وقت روزہ دار کے لیے مجامعت کرنے کی سخت حرمت ‘اس پربڑا کفارا واجب ہو جاتا ہے محمد بن رافع،عبدالرزاق ،ابن جریج،ابن شہاب،حمید بن عبدالرحمان،حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو حکم فرمایا جس آدمی نے رمضان میں روزہ توڑ لیا تھا اسے چاہیے کہ وہ ایک غلام آزاد کرے یا دو مہینے کے روزے رکھے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔