صحيح مسلم - حدیث 2591

كِتَابُ الصِّيَامِ بَابُ صِحَّةِ صَوْمِ مَنْ طَلَعَ عَلَيْهِ الْفَجْرُ وَهُوَ جُنُبٌ صحيح حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبٍ الْحِمْيَرِيِّ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ مَرْوَانَ أَرْسَلَهُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا يَسْأَلُ عَنِ الرَّجُلِ يُصْبِحُ جُنُبًا، أَيَصُومُ؟ فَقَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ، لَا مِنْ حُلُمٍ، ثُمَّ لَا يُفْطِرُ وَلَا يَقْضِي»

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 2591

کتاب: روزے کے احکام و مسائل جس شخص پرحالت جنابت میں فجر طلو ع ہو جائے اس کا روزہ صیحح ہے ہارون بن سعید،ابن وہب،عمرو،ابن حارث،عبدربہ،حضرت عبداللہ بن کعب حمیری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مروان نے ان کو حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف ایک آدمی کے بارے میں پوچھنے کے لئے بھیجا کہ وہ جنبی حالت میں صبح اٹھتا ہے کیا وہ روزہ رکھ سکتا ہے؟تو حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جماع کی وجہ سے جنبی حالت میں بغیر احتلام کے صبح اٹھتے پھر آپ افطار نہ کرتے اور نہ ہی اس کی قضا کرتے۔