كِتَابُ الصِّيَامِ بَابُ فَضْلِ السُّحُورِ وَتَأْكِيدِ اسْتِحْبَابِهِ، وَاسْتِحْبَابِ تَأْخِيرِهِ وَتَعْجِيلِ الْفِطْرِ صحيح حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَا: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ، عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْنَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحَدُهُمَا «يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلَاةَ»، وَالْآخَرُ يُؤَخِّرُ الْإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ الصَّلَاةَ، قَالَتْ: أَيُّهُمَا الَّذِي يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلَاةَ؟ " قَالَ: قُلْنَا عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَتْ: «كَذَلِكَ كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» زَادَ أَبُو كُرَيْبٍ: وَالْآخَرُ أَبُو مُوسَى
کتاب: روزے کے احکام و مسائل سحری کھانے کی فضیلت ‘اس کے استحباب کی تاکید اور اس میں تاخیر اورافطاری میں جلدی کرنا مستحب ہے یحییٰ بن یحییٰ ،ابو کریب،محمد بن علاء،ابو معاویہ،اعمش،عمارہ بن عمیر،حضرت ابو عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں اور مسروق دونوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا اے ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں سے دو آدمی ہیں ان میں سے ایک افطاری میں جلدی کرتا ہے اور نماز میں بھی جلدی کرتاہے دوسرا ساتھی افطاری میں تاخیر کرتاہے اور نماز میں بھی تاخیر کرتاہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا!کہ ان میں سے وہ کون ہیں جو افطاری میں جلدی کرتے ہیں اور نماز بھی جلدی پڑھتے ہیں۔حضرت ابو عطیہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا کہ وہ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔یعنی ابن مسعود،حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کیا کرتے تھے اب کریب کی روایت میں اتنا زائد ہے کہ دوسرے ساتھی ابوموسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔