كِتَابُ الصِّيَامِ بَابُ فَضْلِ السُّحُورِ وَتَأْكِيدِ اسْتِحْبَابِهِ، وَاسْتِحْبَابِ تَأْخِيرِهِ وَتَعْجِيلِ الْفِطْرِ صحيح حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «فَصْلُ مَا بَيْنَ صِيَامِنَا وَصِيَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ، أَكْلَةُ السَّحَرِ»
کتاب: روزے کے احکام و مسائل سحری کھانے کی فضیلت ‘اس کے استحباب کی تاکید اور اس میں تاخیر اورافطاری میں جلدی کرنا مستحب ہے لیث،موسیٰ بن علی ،ابی قیس،مولی عمرو بن عاص،حضرت عمر بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہمارےروزے اور اہل کتاب کے روزے کے درمیان سحری کھانے کافرق ہے۔