كِتَابُ الصِّيَامِ بَابُ بَيَانِ أَنَّ الدُّخُولَ فِي الصَّوْمِ يَحْصُلُ بِطُلُوعِ الْفَجْرِ، وَأَنَّ لَهُ الْأَكْلَ وَغَيْرَهُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ، صحيح حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ - أَوْ قَالَ نِدَاءُ بِلَالٍ - مِنْ سُحُورِهِ، فَإِنَّهُ يُؤَذِّنُ - أَوْ قَالَ يُنَادِي - بِلَيْلٍ، لِيَرْجِعَ قَائِمَكُمْ وَيُوقِظَ نَائِمَكُمْ» وَقَالَ: «لَيْسَ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا وَهَكَذَا - وَصَوَّبَ يَدَهُ وَرَفَعَهَا - حَتَّى يَقُولَ هَكَذَا» - وَفَرَّجَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ -
کتاب: روزے کے احکام و مسائل روزے کاآغاز طلوع فجر سے ہوتا ہے اور فجر طلوع ہونے تک اس (روزہ دار )کے لیے کھانا وغیرہ جائز ہے اسماعیل بن ابراہیم،سلیمان تیمی،ابی عثمان،حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اذان کی وجہ سے نہ رکے یا آپ نے فرمایا کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پکار سحری کھانے سے نہ ر وکے کیونکہ وہ اذان دیتے ہیں یا فرمایا کہ وہ پکارتے ہیں تاکہ نماز میں کھڑا ہونے والا سحری کے لئے لوٹ جائے۔اور تم میں سے سونے والا جاگ جائے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرما کر ہاتھ سیدھاکیا اور اوپر کو بلند کیا یہاں تک کہ آپ فرماتے کہ صبح اس طرح نہیں ہوتی پھر انگلیوں کو پھیلا کر فرمایاس کہ صبح اس طرح ہوتی ہے۔