كِتَابُ الصِّيَامِ بَابُ الشَّهْرُ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ صحيح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَزَلَ نِسَاءَهُ شَهْرًا، فَخَرَجَ إِلَيْنَا فِي تِسْعٍ وَعِشْرِينَ، فَقُلْنَا: إِنَّمَا الْيَوْمُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ، فَقَالَ: «إِنَّمَا الشَّهْرُ وَصَفَّقَ بِيَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَحَبَسَ إِصْبَعًا وَاحِدَةً فِي الْآخِرَةِ»
کتاب: روزے کے احکام و مسائل مہینہ انتیس کا ہوتا ہے لیث،ابن زبیر،حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہینہ تک اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے علیحدہ رہے تھے تو آپ انتیسویں دن میں ہماری طرف تشریف لائے تو ہم نے عرض کیا کہ آج انتیسواں دن ہے پھر آپ نے فرمایا کہ مہینہ انتیس دنوں کا بھی ہوتا ہے اور آپ نے دونوں ہاتھوں کو تین مرتبہ ہلایا اور آخری مرتبہ میں ایک انگلی کو بند فرمالیا۔(اتنے یعنی انتیس دن کا ہوتا ہے)