كِتَابُ الزَّكَاةِ بَابُ إِبَاحَةِ الْهَدِيَّةِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِبَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ صحيح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، كِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ: أَهْدَتْ بَرِيرَةُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمًا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَيْهَا، فَقَال: «هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ»
کتاب: زکوٰۃ کے احکام و مسائل نبی اکرم ﷺ ‘بنو ہاشم ‘اور بنو مطلب کے لیے تحفہ قبول کرنے کا جواز حضرت انس بن ما لک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انھوں نے کہا (حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی آزاد کردہ کنیز) حضرت بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کچھ گو شت جو اس پر صدقہ کیا گیا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور ہدیہ پیش کیا تو آپ نے فر ما یا :" وہ اس کے لیے صدقہ اور ہمارے لیے ہد یہ ہے ۔