كِتَابُ الزَّكَاةِ بَابُ ذِكْرِ الْخَوَارِجِ وَصِفَاتِهِمْ صحيح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: بَيْنَ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ زَيْدُ الْخَيْرِ، وَالْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ، وَعُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ عُلَاثَةَ، أَوْ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ وَقَالَ: نَاشِزُ الْجَبْهَةِ، كَرِوَايَةِ عَبْدِ الْوَاحِدِ، وَقَالَ: إِنَّهُ سَيَخْرُجُ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمٌ، وَلَمْ يَذْكُرْ «لَئِنْ أَدْرَكْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ ثَمُودَ
کتاب: زکوٰۃ کے احکام و مسائل خوارج اور ان کی صفات عمارہ بن قعقاع کے ایک دوسرے شاگرد ابن فضیل نے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی اور کہا:(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خام سونا) چار افراد:زید الخیل ،اقرع بن حابس،عینیہ بن حصن اور علقمہ بن علاثہ یا عامر بن طفیل میں(تقسیم کیا۔)اور عبدالواحدکی روایت کی طرح"ابھری ہوئی پیشانی والا"کہا اور انھوں نے"اس کی اصل سے(جس سے اس کا تعلق ہے) ایک قوم نکلے گی"کے الفاظ بیان کیے اورلئن ادرکت لاقتلنہم قتل ثمود(اگر میں نے ان کو پالیاتو ان کو اس طرح قتل کروں گا جس طرح ثمود قتل ہوئے) کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔