صحيح مسلم - حدیث 2448

كِتَابُ الزَّكَاةِ بَابُ إِعْطَاءِ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ عَلَى الْإِسْلَامِ وَتَصَبُّرِ مَنْ قَوِيَ إِيمَانُهُ صحيح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْمًا فَقَالَ رَجُلٌ إِنَّهَا لَقِسْمَةٌ مَا أُرِيدَ بِهَا وَجْهُ اللَّهِ قَالَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَارَرْتُهُ فَغَضِبَ مِنْ ذَلِكَ غَضَبًا شَدِيدًا وَاحْمَرَّ وَجْهُهُ حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي لَمْ أَذْكُرْهُ لَهُ قَالَ ثُمَّ قَالَ قَدْ أَوُذِيَ مُوسَى بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 2448

کتاب: زکوٰۃ کے احکام و مسائل انھیں دینا جن کی اسلام پر تالیف قلب مقصود ہو اور اس شخص کا صبر سے کام لینا جس کا ایمان مضبوط ہے اعمش نے(ابو وائل) شقیق سے اور ا نھوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی،کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ (مال) تقسیم کیا توع ایک آدمی نے کہا:اس تقسیم میں اللہ کی رضا کو پیش نظر نہیں رکھا گیا۔کہا:میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور چپکے چپکے سے آپ کو بتادیا،اس سے آپ انتہائی غصے میں آگئے،آپ کاچہرہ سرخ ہوگیا حتیٰ کہ میں نے خواہش کی،کاش!یہ بات میں آپ کو نہ بتاتا،کہا:پھر آپ نے فرمایا:"موسیٰ علیہ السلام کو اس سے بھی زیادہ اذیت پہنچائی گئی تو انھوں نے صبر کیا۔"