صحيح مسلم - حدیث 2446

كِتَابُ الزَّكَاةِ بَابُ إِعْطَاءِ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ عَلَى الْإِسْلَامِ وَتَصَبُّرِ مَنْ قَوِيَ إِيمَانُهُ صحيح حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا فَتَحَ حُنَيْنًا قَسَمَ الْغَنَائِمَ فَأَعْطَى الْمُؤَلَّفَةَ قُلُوبُهُمْ فَبَلَغَهُ أَنَّ الْأَنْصَارَ يُحِبُّونَ أَنْ يُصِيبُوا مَا أَصَابَ النَّاسُ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَهُمْ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَلَمْ أَجِدْكُمْ ضُلَّالًا فَهَدَاكُمْ اللَّهُ بِي وَعَالَةً فَأَغْنَاكُمْ اللَّهُ بِي وَمُتَفَرِّقِينَ فَجَمَعَكُمْ اللَّهُ بِي وَيَقُولُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمَنُّ فَقَالَ أَلَا تُجِيبُونِي فَقَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمَنُّ فَقَالَ أَمَا إِنَّكُمْ لَوْ شِئْتُمْ أَنْ تَقُولُوا كَذَا وَكَذَا وَكَانَ مِنْ الْأَمْرِ كَذَا وَكَذَا لِأَشْيَاءَ عَدَّدَهَا زَعَمَ عَمْرٌو أَنْ لَا يَحْفَظُهَا فَقَالَ أَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاءِ وَالْإِبِلِ وَتَذْهَبُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ إِلَى رِحَالِكُمْ الْأَنْصَارُ شِعَارٌ وَالنَّاسُ دِثَارٌ وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنْ الْأَنْصَارِ وَلَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَشِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ وَشِعْبَهُمْ إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 2446

کتاب: زکوٰۃ کے احکام و مسائل انھیں دینا جن کی اسلام پر تالیف قلب مقصود ہو اور اس شخص کا صبر سے کام لینا جس کا ایمان مضبوط ہے عمرو بن یحییٰ بن عمارہ نے عباد بن تمیم سے،انھوں نے حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین فتح کیا،غنائم تقسیم کیے تو جن کی تالیف قلب مقصودتھی ان کو(بہت زیادہ) عطافرمایا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ بات پہنچی کہ انصار بھی اتنا لیناچاہتے ہیں جتنا دوسرے لوگوں کو ملا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ان کو خطاب فرمایا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی ،پھر فرمایا:"ا ے گروہ انصار!کیا میں نے تم کو گمراہ نہیں پایا تھا،پھر اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعے سے تمھیں ہدایت نصیب فرمائی!اور تمھیں محتاج وضرورت مند نہ پایا تھا،پھر اللہ تعالیٰ نے میرے زریعے سےتمھیں غنی کردیا!کیا تمھیں منتشر نہ پایا تھا،پھر اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعے سے تمھیں متحد کردیا!"ان سب نے کہا:اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بھی بڑھ کر احسان فرمانے والے ہیں۔توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"تم مجھے جواب نہیں دو گے؟"انھوں نے کہا:اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہت زیادہ احسان کرنے والے ہیں۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"تم بھی ،اگرچاہو توکہہ سکتے ہو ایساتھا ایساتھا اور معاملہ ایسے ہوا،ایسےہوا"آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی باتیں گنوائیں،(آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارےپاس اس حالت میں آئے کہ آپ کو جھٹلایا گیا تھا،ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اکیلاچھوڑ دیاگیاتھا ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نکال دیاگیاتھا،ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ٹھکانہ مہیاکیا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ذمہ داریوں کابوجھ تھا،ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مواسات کی)عمرو(بن یحییٰ) کا خیال ہے وہ انھیں یاد نہیں رکھ سکے۔اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛"کیا تم اس پر راضی نہیں ہوتے کہ لوگ اونٹ اور بکریاں لے کر جائیں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ا پنے ساتھ لے کر گھروں کو جاؤ؟انصار قریب تر ہیں اور لوگ ان کے بعد ہیں(شعار وہ کپڑے جو سب سے پہلے جسم پر پہنے جاتے ہیں ،دثار وہ کپڑے جو بعد میں اوڑھے جاتے ہیں)اور اگر ہجرت(کا فرق) نہ ہوتا تو میں بھی انصار کا ایک فرد ہوتا اور اگر لوگ ایک وادی اور گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی اور ان کی گھاٹی میں چلوں گا،بلاشبہ تم میرے بعد(خود پر دوسروں کو)ترجیح ملتی پاؤگے تو صبر کرنا یہاں تک کہ تم مجھے حوض پر آملو۔"