صحيح مسلم - حدیث 2442

كِتَابُ الزَّكَاةِ بَابُ إِعْطَاءِ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ عَلَى الْإِسْلَامِ وَتَصَبُّرِ مَنْ قَوِيَ إِيمَانُهُ صحيح حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: ابْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي السُّمَيْطُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: افْتَتَحْنَا مَكَّةَ، ثُمَّ إِنَّا غَزَوْنَا حُنَيْنًا، فَجَاءَ الْمُشْرِكُونَ بِأَحْسَنِ صُفُوفٍ رَأَيْتُ، قَالَ: فَصُفَّتِ الْخَيْلُ، ثُمَّ صُفَّتِ الْمُقَاتِلَةُ، ثُمَّ صُفَّتِ النِّسَاءُ مِنْ وَرَاءِ ذَلِكَ، ثُمَّ صُفَّتِ الْغَنَمُ، ثُمَّ صُفَّتِ النَّعَمُ، قَالَ: وَنَحْنُ بَشَرٌ كَثِيرٌ قَدْ بَلَغْنَا سِتَّةَ آلَافٍ، وَعَلَى مُجَنِّبَةِ خَيْلِنَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ: فَجَعَلَتْ خَيْلُنَا تَلْوِي خَلْفَ ظُهُورِنَا، فَلَمْ نَلْبَثْ أَنِ انْكَشَفَتْ خَيْلُنَا، وَفَرَّتِ الْأَعْرَابُ وَمَنْ نَعْلَمُ مِنَ النَّاسِ قَالَ: فَنَادَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يَا لَلْمُهَاجِرِينَ، يَا لَلْمُهَاجِرِينَ» ثُمَّ قَالَ: «يَا لَلْأَنْصَارِ، يَا لَلْأَنْصَارِ» قَالَ: قَالَ أَنَسٌ: هَذَا حَدِيثُ عِمِّيَّةٍ قَالَ: قُلْنَا، لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَايْمُ اللهِ، مَا أَتَيْنَاهُمْ حَتَّى هَزَمَهُمُ اللهُ، قَالَ: فَقَبَضْنَا ذَلِكَ الْمَالَ، ثُمَّ انْطَلَقْنَا إِلَى الطَّائِفِ فَحَاصَرْنَاهُمْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً، ثُمَّ رَجَعْنَا إِلَى مَكَّةَ فَنَزَلْنَا، قَالَ: فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي الرَّجُلَ الْمِائَةَ مِنَ الْإِبِلِ. ثُمَّ ذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ كَنَحْوِ حَدِيثِ قَتَادَةَ، وَأَبِي التَّيَّاحِ وَهِشَامِ بْنِ زَيْدٍ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 2442

کتاب: زکوٰۃ کے احکام و مسائل انھیں دینا جن کی اسلام پر تالیف قلب مقصود ہو اور اس شخص کا صبر سے کام لینا جس کا ایمان مضبوط ہے سمیط نےحضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی،کہا:ہم نے مکہ فتح کرلیا،پھر ہم نے حنین میں جنگ کی،میرے مشاہدے کے مطابق مشرک بہترین صف بندی کرکے(مقابلہ میں ) آئے۔پہلے گھڑ سواروں کی صف بنائی گئی ،پھر جنگجوؤں(لڑنے والوں) کی ،پھر اس کے پیچھے عورتوں کی صف بنائی گئی،پھر بکریوں کی قطاریں کھڑی کی گئیں،پھر اونٹوں کی قطاریں۔کہا:اور ہم(انصار) بہت لوگ تھے،ہماری تعداد چھ ہزار کو پہنچ گئی تھی اور ہمارے پہلو کے سواروں پر خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔ہمارے گھڑ سوار ہماری پشتوں کی طرف مڑنے لگے اور کچھ دیر نہ گزری تھی کہ ہمارے سوار بکھر گئے اور بدو بھی بھاگ گئے اور وہ لوگ بھی جن کو ہم جانتے ہیں(مکہ کے نو مسلم) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آوازدی:"اے مہاجرین!اے مہاجرین!"پھر فرمایا:"اے انصار! اے انصار!کہا:حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:یہ( میرے اپنے مشاہدے کے علاوہ جنگ میں شریک لوگوں کی) جماعت کی روایت ہے۔کہا:ہم نے کہا:لبیک،اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے،اور ہم اللہ کی قسم!ان تک پہنچے بھی نہ تھے کہ اللہ نے ان کو شکست سے دو چار کردیا،اس پر ہم نے اس سارے مال پر قبضہ کرلیا،پھر ہم طائف کی طرف روانہ ہوئے اور چالیس دن تک ان کا محاصرہ کیا،پھر ہم مکہ واپس آئے اوروہاں پڑاؤکیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو سواونٹ(کے حساب سے ) دینے کا آغاز فرمایا۔۔۔پھرحدیث کا باقی حصہ اسی طرح بیان کیا جس طرح(اوپر کی روایات میں ) قتادہ،ابو تیاح اور ہشام بن زیدکی روایت ہے۔