صحيح مسلم - حدیث 2432

كِتَابُ الزَّكَاةِ بَابُ إِعْطَاءِ مَنْ سَأَلَ بِفُحْشٍ وَغِلْظَةٍ صحيح حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ أَبُو صَالِحٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ قَدِمَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبِيَةٌ فَقَالَ لِي أَبِي مَخْرَمَةُ انْطَلِقْ بِنَا إِلَيْهِ عَسَى أَنْ يُعْطِيَنَا مِنْهَا شَيْئًا قَالَ فَقَامَ أَبِي عَلَى الْبَابِ فَتَكَلَّمَ فَعَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَهُ فَخَرَجَ وَمَعَهُ قَبَاءٌ وَهُوَ يُرِيهِ مَحَاسِنَهُ وَهُوَ يَقُولُ خَبَأْتُ هَذَا لَكَ خَبَأْتُ هَذَا لَكَ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 2432

کتاب: زکوٰۃ کے احکام و مسائل جن کے دلوں میں الفت ڈالنی مقصود ہو اور جن کا ایمان نہ ہونے کی بنا پرضائع ہونے کا خطرہ ہو‘ان کو دینا ‘جہالت کی بناپر مذموم طریقے سے مانگنے والے کو برداشت کرنا ‘اور خوارج اور ان کے بارے میں احکام شریعت ایو ب سختیا نی نے عبد اللہ بن ابی ملیکہ سے اور انھوں نے حضڑت مسور بن مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبائیں آئیں تو مجھے میرے والد مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا مجھے آپ کے پاس لے چلو امید ہے آپ ہمیں بھی ان میں سے (کو ئی قباء ) عنا یت فر ما ئیں گے ۔میرے والد نے دروازے پر کھڑے ہو کر گفتگو کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آواز پہچا ن لی۔آپ باہر نکلے تو قباء آپ کے ساتھ تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں اس کی خوبیاں دکھا رہے تھے اور فر ما رہے تھے :"میں نے یہ تمھا رے لیے چھپا کر رکھی تھی میں نے تمھا رے لیے چھپا کر رکھی تھی ۔